19 اکتوبر 2013 - 20:30
جنت البقیح میں عزاداری کرنے کے الزام میں ایک عراقی شیعہ کو سزاۓ موت

جنت البقیح میں عزاداری کرنے کے الزام میں گرفتار کیۓ گۓ عراقی شیعہ عزادار کو آل سعود سعودی عرب کی جانب سے سزاۓ موت کا حکم جاری - سزائے موت سنائے جانے کے خلاف عراقی پارلیمنٹ نے شدید احتجاج کیا ہے۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق  عراقی وزارت خارجہ کے بین الاقوامی کمیشن نے جنت البقیع سے گرفتار کئے جانے والے ایک عراقی شہری کو سزائے موت کا حکم سنائے جانے کی خبر کو سعودی حکومت کا شیعہ دشمنی پر مبنی اقدام قرار دیا ہے۔ سامی العسکری نے کہا کہ عراقی حاجی کہ جس کا سر اڑانے کا حکم سعودی عدالت نے جاری کیا ہے، ایک عراقی شہری ہے اور وہاں پر ایک زائر ہے۔ اگر اس نے کوئی فحش فعل بھی انجام دیا ہے تو سعودی عرب کا قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ اس کو سزائے موت سنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی حکام لبنانی، ایرانی، عراقی حتیٰ سعودی عرب کے شیعہ شہریوں کے خلاف بھی دشمنی برتتے ہیں لیکن جمہوریت کا دم بھرنے والے مغربی ممالک اس سلسلے میں کوئی بھی رد عمل نہیں دکھاتے۔ سامی العسکری نے کہا کہ سعودی حکام شیعہ مسلمانوں سے کینہ رکھتے ہیں اور یہ پہلے بار نہیں ہوا کہ جنت البقیع کے شیعہ زائرین کے ساتھ ظالمانہ برتائو کیا گیا ہو بلکہ یہ عمل صدیوں سے جاری ہے۔واضح رہے کہ عراقی حاجی سلام کاظم کو، کہ جو جنت البقیع میں اہل بیت علیہم السلام کے قبور کے نزدیک گریہ و زاری میں مشغول تھے سعودی سیکیورٹی فورسز کے اہلکار نے گرفتار کر لیا اور سعودی عدالت نے ان کا سر تن سے جدا کرنے کا حکم صادر کر دیا ہے۔ اس حکم پر عمل در آمد حج کے مراسم کے اختتام کے بعد کیا جائے گا۔.......

/169